باب العلم

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - حدیث رسولۖ "انا مدینۃ العلم و علی بابہا" کے بموجب حضرت علی کا لقب۔ "امام حسین اپنے والد - حضرت علی کی آغوش حکمت میں رہے جن کے متعلق سرکار دو عالم نے فرمایا ہے کہ علی باب العلم ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ١٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں دو اسما پر مشتمل مرکب ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٠ء میں "فاطمہ کا لال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حدیث رسولۖ "انا مدینۃ العلم و علی بابہا" کے بموجب حضرت علی کا لقب۔ "امام حسین اپنے والد - حضرت علی کی آغوش حکمت میں رہے جن کے متعلق سرکار دو عالم نے فرمایا ہے کہ علی باب العلم ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ١٤ )

جنس: مذکر